ہیلو دوستو کیسے ہیں. میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں. آج میں آپکو اپنے بچپن کی سچی کہانی سنانے جا رہا ہوں.
میں اس وقت نویں جماعت میں پڑھتا تھا. ماہ رمضان تھا تو ہماری مسجد کے قاری عمر صاحب نے کہا یاسر اعتکاف میں بیٹھنا ثواب ہوتا ہے تو نے سوچا اس بار اعتکاف میں بیٹھتا ہوں. گھر سے ضروری سامان اور بستر لے کر میں مسجد چلے گیا اور قاری عمر صاحب نے کہا یاسر تم میرے خاص شاگرد ہو تو تم میرے حجرے میں بیٹھ جاو جو مسجد سے تھوڑا ہٹ کر الگ تھا. مجھے افطاری دینے میری ماں آتی تھی.
ایک رات میں سو رہا تھا کہ مجھے ایسے لگا جسے کوئی گانڈ پر ہاتھ پھیر رہا ہے. میری آنکھ کھلی تو دیکھا قاری عمر صاحب تھے انھوں نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور لیٹے رہنے کو کہا میں چپ کر کہ لیٹا رہا. قاری عمر صاحب نے میری شلوار اتار دی اور میری گانڈ کے سوراخ پر انگلی رکھ کر چیک کرنے لگے.
میں بھی گرم ہو چکا تھا قاری صاحب نے میری قمیض بھی اتار دی اور مجھے پورا ننگا کر دیا.اب قاری عمر نے اپنی شلوار اتاری اور قاری صاحب کا 8 انچ موٹا انھوں نے میرے ہاتھ میں دے دیا اور اپنی قمیض اتارنے لگے. میں نے قاری صاحب کے لن کو پکڑ رکھا تھا اور قاری صاحب نے مجھے اپنے نیچے لیٹا لیا اور میرے ہونٹوں کو چوسنے لگے. کافی دیر تک قاری صاحب میرے ہونٹوں کو چوسنے کے بعد قاری صاحب آٹھ کر بیٹھ گے.
مجھے بولے یاسر میرا لن چوسو اور میں نے قاری صاحب کا لن چوسنا شروع کر دیا قاری صاحب بول رہے تھے شاباش پورا منہ میں لو لن میں قاری صاحب کے موٹے اور لمبے لن کو مزے سے چوسنے لگا کچھ دیر لن چسوانے کے بعد قاری صاحب نے مجھے لیٹنے کو کہا اور میں لیٹ گیا. قاری صاحب نے میری گانڈ کے سوراخ پر تھوک لگایا اور اپنے 8 انچ لن کا ٹوپا میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر زور لگایا تو قاری صاحب کے لن کا ٹوپا میری گانڈ میں گھس گیا میرے منہ سے درد بھری چیخ نکلی تو قاری صاحب نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا برداشت کرو کچھ نہیں ہوتا ساتھ ہی قاری صاحب نے میرے چھ انچ کے لن کو پکڑ کر ہلاتے ہوئے میری گانڈ میں ایک اور گھسا مارا تو لن میری گانڈ میں آدھا گھس چکا تھا. اب قاری صاحب نے میری ٹانگیں اٹھا کر گانڈ چودنی شروع کر دی مجھے درد ہو رہا تھا لیکن مجھے مزا ارہا تھا. قاری صاحب نے پورا 8 انچ کا لوڑا میری گانڈ میں گھسا دیا تھا اور میری گانڈ چودے جا رہے تھے. کچھ دیر کے بعد مجھے اپنی گانڈ میں گرم گرم کچھ گرتا محسوس ہوا اب قاری صاحب کے جھٹکے بھی ہلکے ہو گئے تھے. قاری صاحب کی منی میری گانڈ میں نکل گئی تھی. قاری صاحب نے کچھ دیر لن میری گانڈ میں ہی رکھا اور بولے یاسر تیری گانڈ بہت ٹائٹ ہے مزا آگیا تیری گانڈ چودنے کا اب جب تک تو ہے ہر رات تیری گانڈ چودوں گا.
میں نے کہا قاری صاحب مجھے بھی مزا آیا ہے. پھر قاری صاحب نے مجھے الٹا لٹا دیا اور میری گانڈ کے سوراخ پر تھوک پھینکا اور اپنا لن دوبارہ سے میری گانڈ میں گھسا کر میری گانڈ چودنے لگے. اس بار قاری صاحب پوری طاقت سے میری گانڈ چود رہے تھے 20 منٹ تک میری گانڈ چودنے کے بعد قاری صاحب نے اپنی منی میری گانڈ میں نکال دی اور میرے اوپر لیٹ گئے. میں نے قاری صاحب سے کہا مجھے پیشاب کرنا ہے تو قاری صاحب نے لن میری گانڈ سے نکالا میں آٹھ کر پیشاب کرنے گیا تو دیکھا میری گانڈ کا سوراخ بہت کھلا ہوا ہے قاری صاحب نے میری گانڈ کھول کر رکھ دی تھی. پیشاب کر کہ واپس آیا تو قاری صاحب نے مجھے گود میں بیٹھا لیا اور میرے ہونٹوں کو چومنے لگے. اب قاری صاحب نے مجھے گھوڑی بنایا اور پھر سے میری گانڈ چودنا شروع کر دی. قاری صاحب نے میری گانڈ زور زور سے چودنا شروع کی اور پھر سے میری گانڈ کو اپنی منی سے بھر دیا. اس رات قاری عمر صاحب نے چار بار میری گانڈ چودی. اور ہر رات نماز تراویح کے بعد قاری عمر صاحب میری گانڈ چودتے تھے. اس دوران قاری عمر صاحب نے میری ماں کی پھدی بھی اپنے حجرے میں لے جا کر چودی اسکی کہانی اگلی بار بتاوں گا.
دوستو کیسی لگی کہانی کمنٹس میں بتائیے گ
مجھے مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے پانچوان دن تھا اور قاری عمر صاحب بلا ناغہ میری گانڈ چود رہے تھے. میری ماں نسرین مجھے افطاری اور سحری دینے آتی تھی.
ایک دن قاری صاحب نے جب میری ماں کو مجھے کھانا دیتے دیکھا تو بعد میں مجھے بولے یاسر تیری ماں کا کیا نام ہے میں نے کہا نسرین نام ہے.قاری صاحب بولے یاسر تیری ماں کے چوتر بہت گرم لگتے ہیں. تیرا ابو تو سعودی عرب ہوتا ہے تو بیچاری لن کے لیے ترستی ہو گی. میں سمجھ رہا تھا کہ قاری عمر کا میری ماں پر دل آگیا ہے. قاری صاحب بولے دیکھ یاسر میں تیری گانڈ چودتا ہوں اور یہ بات مجھ میں اور تجھ میں رہے گئ اگر تو ایک کام کرے کل سحری کے وقت جب تیری ماں کھانا دینے آئے گئ تو تیری جگہ میں اسے ملوں گا اور میں اسکو اسی اپنے اعتکاف والے حجرے میں چودنا چاہتا ہوں. میں نے کہا ایسا نہیں ہو گا ماں راضی نہیں ہو گئی تو قاری صاحب بولے ہو جائے گئی راضی یہ میرا کام ہے. مجھے بس تیرا ساتھ چاہیے اور یہ بات ہم دونوں میں رہے گی.
ماں سحری اور افطاری دینے مسجد کے عقبی دروازے سے آتی تھی جو قاری صاحب کے حجرے میں کھلتا تھا. اگلی صبح ماں کے آنے سے پہلے مجھے قاری صاحب نے اپنی جگہ بھیج دیا اور خود میری جگہ آگئے تھے. ہم دونوں کے بستروں کے درمیان پردہ لگا ہوا تھا چاروں طرف سے مگر زیادہ دور نہیں تھے.
ماں سیدھا میری والی جگہ پر آئی اور پردہ اٹھایا اور کھانے کی ٹرے نیچے رکھ دی. مگر وہاں قاری عمر لیٹا ہوا تھا. ماں بولی قاری صاحب یاسر کہاں ہے تو قاری صاحب بولے آؤ تم بیٹھو وہ بھی آتا ہو گا. ماں اس چادر کے اندر بستر پر بیٹھ گئ. قاری صاحب نے میری ماں کو کہا نسرین تم بہت خوبصورت ہو اور سچ میں میرا تم پر دل آچکا ہے اگر تم شادی شدہ نہ ہوتی تو میں تم سے شادی کر لیتا. ماں بولی قاری صاحب یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ قاری صاحب نے میری ماں کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ماں کو بستر پر لٹا دیا اور میری ماں کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا. اب قاری صاحب نے پردہ آگے کر دیا اور میں کچھ نہیں دیکھ سکتا تھا. میں نے باہر نکل کر ایک کونے سے پردہ ہٹایا اور سین دیکھنے لگا.
قاری عمر نے میری ماں کو لٹایا ہوا تھا اور میری ماں کے ممے دبا رہا تھا. ماں بول رہی تھی قاری صاحب نہ کریں مگر قاری صاحب بولا نسرین بہت دن سے تیری چوت پر گرم ہوں آج تیری چوت چود کر تجھے واپس بھیجوں گا. ماں اب سمجھ چکی تھی کہ آرام سے چدوانے میں بھلائی ہے شور سے ماں کی اپنی بھی بدنامی ہو جائے گئ.
ماں بولی ٹھیک ہے جلدی چود لو مجھے یاسر نہ آجائے تو قاری صاحب بولا فکر نہ کر نسرین وہ نہیں آئے گا اسکو پتہ ہے آج میں تیری پھدی چودنے والا ہوں. قاری صاحب نے میری ماں کی قمیض اوپر کر کہ برا سے میری ماں کے ممے باہر نکال لیے اور زور زور سے چوسنے لگا میری ماں سسکیاں لے لے کر ممے چسواو رہی تھی. اب قاری صاحب نے میری ماں کے ہونٹ چوسنے شروع کر دیئے اور میری ماں نے قاری صاحب کی شلوار کا ناڑہ کھول دیا اور قاری صاحب کا لن پکڑ لیا اور ہلانے لگی. قاری صاحب کو میری ماں کا انکی شلوار کھولنا بہت اچھا لگا. اب میری ماں نے قاری صاحب کا لن چوسنا شروع کر دیا قاری صاحب بہت مزے میں تھے اور میری ماں قاری صاحب کے لن لو چوپے لگا رہی تھی.
قاری صاحب نے کہا نسرین وقت کم ہے نماز بھی پڑھانی ہے جلدی سے لیٹ اور شلوار اتار دے.
میری ماں نے شلوار اتار دی اور لیٹ گی. قاری صاحب نے میری ماں کی ٹانگیں کھول دی اور میری ماں کی پھدی پر اپنا 8 انچ لمبا لوڑا رکھ کر گھسا مارا ماں کی پھدی پہلے سی کافی گیلی تھی اور لن ایک دم سے میری ماں کی چوت میں پورا گھس گیا.
آہ قاری صاحب میری پھدی آہ
آہ قاری صاحب بہت موٹا لمبا لن ہے
اہ میری پھدی میں مزا آگیا ہے.
قاری صاحب بولے اب تیری پھدی چدا کرے گی اور قاری صاحب نے میری ماں کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر پھدی چودنا شروع کر دی. قاری صاحب زور زور سے میری ماں کی چدائی کر رہے تھے اور ماں بھی فل مزے میں تھی. قاری صاحب میری ماں کی پھدی پر چڑھ کر چود رہے تھے. 10 منٹ کے بعد قاری صاحب میری ماں کی پھدی میں فارغ ہو گئے میری ماں کی چوت کو اپنے رس سے بھر دیا.
اب قاری صاحب نے جلدی جلدی شلوار پہنی اور ماں کو کہا جاؤ کل رات کھانا لیٹ لے کر آنا تسلی سے تمہاری چدائی کروں گا ابھی نماز کا وقت ہے.
ماں واپس چلی گئی اگلی شام جب ماں رات کھانا لائی تو ماں بولی یاسر تم قاری صاحب کے حجرے میں چلے جانا میں دس بجے واپس آؤں گئ. قاری صاحب نے مجھے کچھ شرعی مسائل سمجھانے ہیں. میں مسکرا دیا اور ماں بھی مسکرانے لگی. اس رات قاری صاحب نے فجر تک ماں کی ہر اسٹائل سے پھدی چودی اور قاری صاحب 2 سال تک امام مسجد ہمارے علاقے میں رہے اور میری ماں کی چدائی کر کہ میری ماں کو خوش رکھا ہوا تھا. پھر قاری صاحب واپس پشاور چلے گئے مگر میری ماں آج بھی قاری صاحب اور انکے لن کو یاد کرتی ہے.
دوستو کیسی لگی کہانی کمنٹس میں بتائیے گ
Reviewed by Sonia
on
May 15, 2026
Rating:
No comments: